کورونا وائرس اورحکومت و انتظامیہ کی ناکامی
تحریر:محسن رضا ضیائی،پونہ9921934812
نومبر ۲۰۱۹ء کو چین کے صوبۂ ہوبئی کے شہر ووہان سے ایک مہلک وائرس کا جنم ہوا، جس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہزاروں لوگوں کو اپنے تباہ کن وائرس سے موت کے گھاٹ اتاردیا، یہ وائرس دیکھتے ہی دیکھتے شہر سے ریاست، ریاست سے ملک اور ایک ملک سے پوری دنیا میں بہت ہی سرعت وتیزی کے ساتھ پھیلتا چلا گیا اور پوری دنیا کو سنبھلنے کا ذرا سا بھی موقع نہیں دیا، جس سے پوری دنیاے انسانیت بکھر کر رہ گئی اور پھر جو ہوا وہ اب ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں کہ اس وائرس نے پوری دنیا کو اپنے وجود سے ایسا دہلا کر رکھ دیا کہ بڑے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک بھی سنبھل نہ پائیںاور اس سے بچاو کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تداپیر پر عمل پیرا ہوئے۔ ان سب کے باوجود عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث دنیا میں تا دمِ تحریر۸؍لاکھ۶۷؍ہزارسے زائد اموات ہوچکی ہیں اور۲؍کروڑ ۶۱؍لاکھ ۸۴؍ہزاافراد متاثر ہوئے جب کہ ایک کروڑ ۸۴؍لاکھ ۴۸؍ہزارمریض شفایاب ہوئے ہیں۔
متاثرین اور ہلاک شدگان کی تعداد سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ وائرس اب تک کس قدر خطرناک اور جان لیوا ثابت ہواہے، جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور آج پوری دنیا کے لیے کس طرح دردِ سر بنا ہوا ہے، جس کا نہ اب تک کوئی خاطر خواہ علاج دریافت ہوا ہے اور نہ ہی کوئی دوا بنی ہے۔حال آں کہ بہت سارے ممالک ایسے ہیں، جو کورونا کی ویکسن(Vaccine) بنانے کا دعوی کر رہے ہیں، اور ایسے ہی کریڈت لینے کی ایک ہوڑ سی لگی ہوئی ہے۔یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس محیّر العقول بیماری کا علاج کون دریافت کرتا ہے اور اس کا علاج دریافت کرنے میں کسے کامیابی ملتی ہے۔تاہم پوری دنیا کے سائنس دان اس کا تدارک و حل دریافت کرنے میں جٹے ہوے ہیں، لیکن اب تک ان کے ہاتھ کوئی کامیابی نہیں لگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وبا کی خطرناکی اور ہولناکی کو دیکھتے ہوے ڈبلیو ایچ او نے(WHO) ۱۲؍مارچ کو اسے عالمی وبا قرار دے دیا تھااور ۳۱؍مارچ کو پوری دنیا کو اس کی تباہی و بربادی سے بچانے کے لیے عالمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کردیا تھا۔
مارچ کے مہینے سے تقریباً سبھی ممالک میں لاک ڈاون(Lock Down) اور کرفیو (Curfew)جیسے حالات ہیں، جہاں معمولاتِ زندگی مکمل طور پر درہم برہم ہیں۔ یہاں تک کہ تعلیمی اداروں، عبادت خانوں، سیاحتی مقاموں اور سبھی طرح کے بازاروں کو مقفل کردیا گیا ہے۔ حالاں کہ ان سب سے ممالک کا بے تحاشہ نقصان ہوا ہے، جہاں لاکھوں کی تعداد میں قیمتی جانیں تلف ہوئی ہیں، وہیں ممالک کو معیشت کی صورت میں بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
اگر حقیقت و واقعیت کی رو سے دیکھا جائے تو دنیائے انسانیت کے لیے یہ ایسا بحران ثابت ہواہے، جس نے بہ یک وقت پوری دنیائے انسانیت پر لرزاں طاری کردیا اور جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ موت کی آغوش میں سوگئے۔ یقیناً یہ تاریخ کا ایک ایسا ہلاکت خیز وائرس ہے، جسے رہتی دنیا تک لوگ فراموش نہ کرپائیں گے۔
آئیے اب اِ مہلک وائرس کے پھیلنے اور بڑھنے کے اسباب و علل کا قدرے جائزہ لیتے ہیں۔
اِس سلسلے
میں اگر بنظرِ غائر حقائق کا جائزہ لیا جائے تواس مہلک اور تباہ کن وبا کورونا
وائرس کے پھیلنے اور بڑھنے کے لیے عالمی ادارۂ صحت کی نا اہلی، عدمِ توجہی
اورغفلت و سستی سب سے زیادہ ذمہ دارہے، جس کی وجہ سے یہ وائرس ایک شہر سے نکل کر
پوری دنیا میں پھیل گیا اور لاکھوں لوگوں کو موت کاشکار بنالیا۔ نہایت ہی یہ قابل
افسوس اور باعثِ تشویش ناک بات ہے کہ ڈبلیو ایچ او جیسا متحرک اور ذمہ دار ادارہ
جس کے پاس وسائل و ذرائع کی کوئی کمی نہیں ہے، جس کے افراد اور دفاتر دنیا بھر میں
پھیلے ہوئے ہیں، ان سب کے باوجود ڈبلیو ایچ او نے دنیا کو اس وبا کے خطرات و خدشات
سے آگاہ نہیں کیا، جس کے نتیجے میں پوری دنیا اس وبائی مرض سے جاں بلب ہوچکی ہے۔
انسانیت کراہ رہی ہے۔ معیشت تباہ و برباد ہوچکی ہے اور کتنے ہی غربا و فقرا جن کا
عام حالتوں میں گزر بسر بمشکل چلتا تھا، وہ بھوک مری کی تاب نہ لاکر موت کو گلے
لگا چکے ہیں، یہ بہت بڑی شرم ناک بات ہے۔ اگر ڈبلیو ایچ او قبل از وقت یا بر وقت
دنیا کو اس سے آگاہ کردیتا تو ممکن تھا کہ اس پر قدرے قابو پایا جا سکتا تھا اور
آج جو جان و مال کی صورت میں تباہیاں و بربادیاں ہوئی
ہیں، اس سے بچا جا سکتا تھا۔
ڈبلیو ایچ او کو اپنی اسی ناکامی اور غیر ذمہ داری کی وجہ سے عالمی سطح پر جارحانہ تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بہت سے ممالک نے تو کورونا کے پھیلاو اور بڑھنے کا سبب بھی اسی کو قرار دیا اور یہ الزام عائد کیا کہ ادارہ نے کورونا وبا کے دوران مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا نہیں کیا، جس کے باعث دنیا کو سنگین نتائج اور صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا،جن میں امریکہ سرِ فہرست ہے۔ مزید بر آں یہ کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک سرکاری اعلامیہ جاری کیا کہ وہ اب ڈبلیو ایچ او کے ممبر نہیں ہوں گے۔ اس سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اب امریکہ ذبلیو ایچ او کی فنڈنگ(ٖFunding) نہیں کرے گا اور امریکہ واحد ایسا ملک ہے، جو ڈبلیو ایچ کو سب سے زیادہ فنڈنگ کرتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی ڈبلیو ایچ او کو عالمی سطح پر کئی طرح کے نقصانات اور تنقیدات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریاسس (Director-General Tedros Ghebreyesus)نے ۱۸؍مئی کو اپنے سالانہ اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے سربراہان اور وزرائے صحت کے سامنے یہ تسلیم کر ہی لیا کہ کرونا وائرس سے متعلق ہم سے بعض کوتاہیاں ہوئی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی کوتاہیوں اور غیر ذمہ داریوں کی وجہ سے پوری دنیا کو بھاری تعداد میں نقصان اٹھانا پڑ رہاہے۔ کاش ادارہ اپنی ذمہ داریاں ایمان داری اور دیانت داری سے سر انجام دیا ہوتا تو آج دنیا کے یہ حالات نہ بنتے اور عالمی منظر نامہ کچھ اور ہوتا!
اب تک تو بات عالمی ادارۂ صحت کی ناکامی اور غیر ذمہ داری کے حوالے سے تھی۔ لیکن حقیقت کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ اس کے لیے جہاں ادارہ ذمہ دار ہے وہیں پر کچھ ممالک کے وزرائے صحت بھی برابر کے ذمہ دار ہیں، جو اپنے ممالک کے حالات پر قابو پانے اور انہیں بہتر بنانے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ کچھ ممالک ایسے ہیں، جنہوں نے اپنے یہاں کے نازک حالات کا فوری جائزہ لیا، انہیں سمجھا اور پھر ضروری اقدامات کرکے حالات کو قدرے بہتر کیا، جہاں اب حالات معمول پر ہیں۔ لیکن جن ممالک میں وزارتِ صحت نے اپنے فرائض کو کما حقہ انجام نہیں دیا، آج وہاں کے حالات دگر گوں ہیں، ان ممالک میں ایک ہمارا ملکِ ہندوستان بھی ہے، جو سب سے زیادہ متاثرین ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔
اگر بات کی جائے ہندوستان کی تو یہاں اس وائرس کی ابتدا جنوبی ریاست کیرلا سے ہوئی، جہاں ۳۰؍ جنوری کو پہلا کیس رپورٹ کیا گیا اور اس خطرناک بیماری سے ۱۲؍مارچ کو ایک ۷۶؍سالہ شخص کی پہلی موت گلبرگہ ، کرناٹک میں ہوئی۔سچی بات تو یہ ہے کہ یہاں کورونا وائرس بہت سے ممالک کا دورہ کرتے ہوئے بہت ہی تاخیر سے پہنچا اور جلدی ہی اپنے بال و پر پھیلانا شروع کردیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کے آگ کی طرح ملک کے کونے کونے میں پھیل گیا۔
اگر یہاں بھی عالمی ادارۂ صحت اور ملک کی وزارت صحت ابتدائی کیس ہی میں حالات پر قابو پانے کی سعی و کوشش کرتیں اور اس کے پھیلاو کے روک تھام کے لیے ممکنہ وسائل و ذرائع استعمال کرتیں تو آج ملک کی تصویر کچھ مختلف ہوتی، ہزاروں جانیں نہ جاتیں، معیشت تباہ و برباد نہ ہوتی، لاک ڈاون اور کرفیو جیسے حالات سے ملک کو دو چار نہ ہونا پڑتا۔
حکومتِ ہند کی ناکامی اس طور پر بھی سامنے آتی ہے کہ ڈاکٹر ہرش وردھن جہاں اس ملک کے وزیرِ صحت ہیں وہیں عالمی ادارۂ صحت کے ایگزیکیٹیو بورڈ( (Executive Board)کے چیئرمین(Chairmanبھی ہیں، جن کی بہت زیادہ ذمہ داری بنتی تھی کہ اپنے ملک میں پھیل رہے کورونا وائرس پر ممکنہ حد تک قابو پاتے اور ملک کو اس بحرانی حالات سے نکالنے میں اپنا کلیدی رول ادا کرتے ، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ بلکہ جب اس وائرس نے پورے ملک میں اپنے پیر پسار لیا تواس کی روک تھام کے لیے بہت کچھ کیا گیا، یہاں تک کہ اسفار پر پابندی، قرنطینہ، کرفیو، تالابندی، اجتماعات اور تقریبوں کا التوا یا منسوخی، عبادت گاہوں اور سیاحتی مقامات کو مقفل کر دینے جیسے بہت سے اقدامات بھی کیے گئے، لیکن یہ سب لا حاصل ثابت ہوے، جن کا کوئی نتیجہ خیز اثر دیکھائی نہیں دیا، بلکہ اس سے انسانوں کا شدید ترین نقصان ہوا، جن کی معمولاتِ زندگی ٹھپ ہوگئیں، رشتوں میں دوریاں پیدا ہوگئیں اور عبادت خانوں سے نزدکیاں ختم ہوگئیں۔
سب سے زیادہ تعجب اور حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب دنیا ترقی و کامیابی کی طرف تیزی کے ساتھ سر پٹ دوڑ رہی ہے۔ نت نئے آلات دریافت کررہی ہے۔ چاند پر کمندیں ڈال چکی ہے، ہمالیہ کی پہاڑیاں سر کر چکی ہے۔ سائنس و ٹیکنالاجی (Technology)میں بہت سے حیر انگیز کام انجام دے چکی ہے، لیکن جب سے کورونا کی وبا آئی ہے، اس ترقی یافتہ دنیا کی رفتار کچھوے کی چال کی طرح سست ہوگئی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ عوام منظم ہوکر حکومت و انتظامیہ پر دباو ڈالے اور ان سے یہ مطالبات کرے کہ وہ اس مہاماری پر فوری قابو پاکر دوبارہ معمولاتِ زندگی کو بحال کریں، جو نقصانات ہوئے ہیں، رفتہ رفتہ ان کی کسی قدر تلافی کریں، جن لوگوں نے اس وبا سے جانیں گنوائی ہیں، ان کے افرادِ خانہ کو حکومتی امداد پیش کریں، جو لوگ بے روز گار ہوچکے ہیں، انہیں روزگار فراہم کریں اور کورونا کے حالات سے نمٹنے کے لیے ہر علاقے میں ماہر ڈاکٹرس کی ٹیمیں تعینات کریں، جس سے اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ ممکن ہے کہ ان اقدامات سے حالات میں بہتری آئیں اور لوگ اپنے کھوئے ہوئے وسائل کو دوبارہ حاصل کریںاور ایک خوش گوار زندگی کے ٹریک (Track)پر دوبارہ لوٹیں۔
(مضمون نگار‘ ماہ نامہ انوارِ ہاشمی کے چیف ایڈیر ہیں)
..:: FOLLOW US ON ::..
![]() |
![]() |
![]() |








No comments:
Post a Comment