موجودہ صدی میں ہمارا دینی حال : ایک تجزیاتی مطالعہ
پیشکش: عطاءالرحمن نوری (ریسرچ اسکالر) مالیگاﺅں
اگر ہم عالمی سطح پر قومِ مسلم کے دینی حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو پہلے سے کافی گراوٹ نظر آتی ہے اور دینی اعتبار سے مسلمانوں میں بے راہ روی، منافرت و کشیدگی کافی بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ پہلے حلال و حرام، جائز اور ناجائز کا مسلمانوں میں کسی حد تک خیال رکھا جاتا تھا لیکن اب اس کا تجزیہ کریں اور مسلمانوں کے اعمال و کردار کا تنقیدی جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اکیسویں صدی کے آغاز سے حلت و حرمت کی تمیز گویا امت مسلمہ میں کمزور دکھائی دے رہی ہے، پہلے تجارتی لین دین کے کسی ناجائز طریقہ پر علما سود کا حکم دیتے اور شرعی احکام پیش کرتے تو لوگ اسے ترک کر دیتے، اب تو یہ عام بلا بنتی جا رہی ہے اور بے شمار مسلمان اس میں گرفتار ہو رہے ہیں، اسی طرح خیانت کا بھی دور دورہ ہے، لوگ امانتوں کو بے خوف و خطر ہڑپ کر جاتے ہیں اور خیانت کی سزا کی انہیں فکر نہیں ہوتی، اطاعتِ الٰہی اور اطاعتِ رسول ا کا جذبہ مفقود نظر آتا ہے، بلکہ نئی نسل کے نوجوانوں کو خلفائے اربعہ کے نام تک نہیں معلوم اور فلم انڈسٹری کے ہیرو ہیروئن کے بارے میں تاریخِ پیدائش سے لے کر ان کی پسند سے ناپسند تک سب کچھ جانتے ہیں۔العیاذ باللہ
بظاہر مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد زیادہ دکھائی دے لیکن اگر آپ اس کا اثر نمازیوں کی زندگی پر دیکھنا چاہیں تو ندارد۔ حاجیوں اور روزہ داروں کی تعداد میں قدرے اضافہ ضرور ہوا لیکن ان عبادات کے اثرات انسانی زندگی پر کہیں کہیں نظر آتے ہیں۔ تحریکات کا وجود لیکن اخلاص ناپید۔ الا ماشاءاللہ
رہے دینی معلومات اور دینی تعلیم کے حصول کا شوق تو یہ سب کچھ عیاں ہے۔........یاد رکھیں! دین ہی ہماری اصل پونجی ہے، اگر یہ ضائع ہو گئی تو دونوں جہاں برباد اور اگر یہ سلامت تو دونوں جہاں میں ہم سلامت۔ آج دینی سرگرمیوںکی طرف نوجوان پیش قدمی نہیں کرتے، یہی وجہ ہے کہ دن بدن دین سے بغاوت اور نفرت نئی نسل میں عام ہوتی نظر آتی ہے۔ الا ماشاءاللہ
گزشتہ سال ہر اعتبار سے ہم سب کو دعوتِ فکر دیتا ہے کہ تم نے قوم کے خورد و نوش اور رہائش وغیرہ کا انتظام تو کیا ہوگا لیکن ان کے دلوں میں دینی شعور اور ملی تڑپ بیدار کرنے کے بارے میں کوئی فکر نہیں جو کہ دنیاوی زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے۔ اس لئے کہ دین ہی انسان کو انسان بناتا ہے اور زندگی کی آخری سانس تک دین ہی کے دامن سے وابستہ رہنے کا اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ دین ہی نے ہم کو عزت دی، شہرت دی، کامیابی دی، مقام دیا اور آج دین سے دوری کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں کہ جو کچھ تھا وہ بھی جاتا دکھائی دیتا ہے۔ خبردار! اپنی زندگی کو دین سے دور نہ رکھیں۔ گزشتہ صدی میں عوام کا حال یہ تھا کہ علمائے کرام اگر کسی معاملہ میں کوئی حکم صادر فرمادیتے تو عوام بے چون و چرا اسے قبول کر لیتی اور اس پر عمل کرنا اپنے لئے ضروری سمجھتی اور ان کے فیصلہ کو اپنے لئے حرفِ آخر اور کامیابی کی ضمانت تصور کرتی۔ علمائے کرام کی زیارت اور ان کی صحبت سے استفادہ، ان کی مجلس کی حاضری کو رحمت خیال کر کے بچوں کے دلوں میں اللہ و رسول کی محبت اور ذکر و درود کا سچا جذبہ بیدار کرتی، جھوٹ سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا اور صدق ہی ان کی پہچان تھی۔
دھوکہ دہی، فریب کاری کو آج کے دور میں پالیسی اور فن تصور کیا جاتا ہے، جب کہ گزشتہ صدی میں اسے ایک بدترین عیب سمجھا جاتا، مساجد میں دنیا کی باتیں کرنا گناہ جانتے، جوا، شراب اور حرام چیزوں کو حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت اور والدین کی اطاعت، پڑوسیوں کے ساتھ صلہ رحمی ان کا وطیرہ تھا اور ان کی خیر خواہی لازمی گردانتے تھے، گویا گزشتہ صدیوںمیں ہمارا حال کسی حد تک اچھا تھا، لیکن اکیسویں صدی میں ہر سال ہمارا دینی حال نہایت ہی گھناﺅنا ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں دینی تعلیمات اور مذہبی اصول و قوانین کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے کی فکر ہے، نہ ہی اسلامی تشخص بر قرار رکھنے کا کوئی شوق۔ احترام، عبادت، پردہ، ذکرو درود، مساجد کا احترام وغیرہ سب مفقود، بلکہ ان کی جگہ اللہ تعالیٰ کی پیہم نافرمانیوں کا ایک تسلسل ہے جو ہر کسی پر واضح اور روشن ہے۔
آج ہم اپنی بے آبروئی، ذلت و رسوائی اور زوال و پستی کی باتیں کر تے ہیں اور شور مچاتے ہیں کہ غیر قوم ہم کو اسلامی شعار میں حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے، تو میں کہتا ہوں کہ تاریخ کا مطالعہ کرو، جب تک ہمارا دینی حال اچھا تھا ہر کوئی ہمارا احترام کرتا اور غیروں پر بھی اس کا اثر ہوتا۔ غیر قوم مسجد کے قریب کبھی ڈھول باجا نہیں بجاتی تھی، اگر وقتِ نماز میں مسلمان کہیں نماز پڑھتا ہو تو غیر قوم کے لوگ بھی احتیاط سے باتیں کیا کرتے، ماہِ رمضان المبارک میں غیر قومیں دن کے اجالے میں مسلمانوں کے سامنے کھانے پینے سے احتیاط کرتیں۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ان کا یہ فعل مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب ہوگا اور اس طرزِ عمل سے ان کے مذہبی امور کی بجا آوری میں خلل واقع ہوگا۔
لیکن ہم شیطان کے مکر و فریب کے شکار ہوئے اور ہم نے خود اپنے دینی احکام کی بجا آوری میں حد درجہ کوتاہی برتی، ہم نے مسجد کا احترام چھوڑ دیا، ہمارے گھر مسجد سے قریب ہوں تو بھی ناچ گانوں کی آواز سے نمازیوں کو تکلیف ہم ہی پہنچاتے ہیں، بھلا جب مسلمان ہی ایسا کرے گا تو غیر قوموں پر اس کا کیا اثر ہوگا۔ ہم نے دیکھا کہ ہماری ان ساری چیزوں کی وجہ ہمارا دین سے رشتہ کمزور ہونا ہے، بلکہ (معاذ اللہ) دین ہی کو اپنی ترقی میں رکاوٹ ہم سمجھنے لگے، ہم نے ترقی کے نام پر اور باعزت بننے کے لئے پہلے داڑھی منڈوائی، پھر مونچھیں رخصت ہوئیں اور بالکل زنانی صورت اختیار کر لی۔ داڑھی کے رخصت ہوتے ہی بے غیرتی بڑھی، بے شرمی بڑھی، تباہی نے دروازے پر دستک دی، ہم سمجھے کہ اب ترقی کریں گے، ہم نے یہود و نصاریٰ جیسی شکل بنا لی، داڑھی منڈانے سے کیا چیز ہاتھ آئی؟ کون سی ترقی ہم نے کر لی؟ سوائے اس کے کہ اہلِ نظر کو یقین ہو گیا کہ اب فرزندانِ اسلام میں اطاعتِ رسول ا کا جذبہ باقی نہیں ہے، شریعت کا احترام ان کے دلوں سے جاتا رہا۔ جو علی الاعلان اپنے حبیب ا کی سنت کو تراشتا ہو وہ کیسے بہتر اور قابلِ عزت ہو سکتا ہے؟ داڑھی منڈانے سے عزت کیا ملتی خود اپنے رب کی ناراضگی مول لے کر عوام کا اعتماد بھی کھو بیٹھے۔ ترقی کے بجائے تنزلی ہمارے ہاتھ آئی۔
آج اگر ہم سِکھ قوم کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے داڑھی اور سر کے بالوں کو منڈوائے بغیرخوب ترقی کی۔ ترقی کے لئے کبھی یہ چیزیں ان کے لئے رکاوٹ نہیں بنیں، جہاں دیکھو، جس بڑے عہدے پر دیکھو، جس ملک میں دیکھو، جس میدان میں دیکھو وہ کامیاب نظر آئیں گے اور اپنے شعار کے ساتھ۔ لیکن آج قومِ مسلم کو دینی شعار اختیار کرنے میں شرم آتی ہے، داڑھی رکھنے میں شرم، نماز پڑھنے میں شرم، پردہ کرنے میں شرم، بیٹھ کر کھانے پینے میں شرم، اسلامی لباس اختیار کرنے میں شرم۔ اس قدر ہم نے شرم کیا کہ بے شرمی اور بے حیائی کی ساری حدیں تجاوز کر گئے۔
ہمیں جو کام کرنے میں فخر ہونا چاہئے آج ہمیں انہیں کاموں میں شرم محسوس ہو رہی ہے اور جو کام کرنا بے شرمی اور بے غیرتی کی بات تھی آج ان کاموں کو فخر کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ آج ناچ گانے، فحاشی، فلم بینی، بے غیرتی، بے پردگی، عریانیت، غیر عورتوں سے ملنا، ملانا جو کبھی بھی باعزت مسلمان پسند نہیں کر سکتا، آج ترقی کے نام پر سب کچھ ہو رہا ہے اور مسلمان ایسا کرنے پر فخر محسوس کر رہے ہیں، ساتھ ہی دوسروں کو ایسا کرنے کی ترغیب بھی دے رہے ہیں۔ اگر شریعتِ مصطفی ا سے روگردانی ترقی ہے تو لعنت ہو ایسی ترقی پر، جان لو کہ شریعت کو چھوڑ کر ترقی کیا ملے گی، بربادی ہی بربادی ہاتھ آئے گی اور ذلت و رسوائی کے سوا اس کا کچھ بھی حاصل نہیں۔ ذلت و خواری، انحطاط و پستی ، تباہی وبربادی سے ہمارا رشتہ اس قدر مضبوط ہوچکا ہے کہ مکمل کوشش کے باوجود بھی ہم اپنے دامن کو بچا نہیں سکتے ، عروج وارتقا، عظمت وشوکت کی راہ پر گامزن ہونا تو دور کی بات ہے ۔ لہٰذا ہمیں غور کرنا چاہئے کہ مزید تباہ ہونا ہے یا پھر ترقی کرنی ہے؟ اگر ترقی کرنی ہے تو اسلامی شعار کے ساتھ ساتھ علم کے میدان میں، سائنس کے میدان میں، تحقیق کے میدان میں، تجارت کے میدان میں اور سیاست کے میدان میں قوم بڑھ کر حصہ لے انشاءاللہ العظیم کبھی بھی یہ قوم زوال پذیر نہیں ہوگی اور ترقی اور کامیابی بھی اس کے ہم رکاب رہے گی، دین کے دامن کو تھامنے کی وجہ سے اللہ عزوجل عظمت و سربلندی اور قدر ومنزلت عطا فرمائے گا۔ ماضی ہمارا اتنا روشن وتابناک ہے کہ ہم ان تابناکیوں کو دیکھیں اوراسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوںتو روئے زمین ، خاص طور پر مدینہ منورہ مومنوں کے لئے فیض رساں اور عروج و ارتقا کی سرزمین بن جائے گا۔
(ماخوذ: عظمتِ ماہِ محرم اورامام حسین رضی اللہ عنہ ، از : مولانا محمد شاکر علی نوری، امیر سُنی دعوتِ اسلامی)
ٹی آر پی اور افواہوں سے دور،سچائی ، دیانت اور انصاف سے قریب ، مبنی بر حقیقت مضامین ،مقالات ، تعلیمی ، انقلابی ، معیاری اور تحقیقی و تفتیشی ویڈیوز کے لیے غیر جانبدار ادارے نوری اکیڈمی کے یوٹیوب چینل ، ویب سائٹس اور سماجی رابطے کی تمام سوشل سائٹس پر اپڈیٹ پانے کے لیے نوری اکیڈمی کو سبسکرائب ، فالو اور لائک کریں۔
..:: FOLLOW US ON ::..
![]() |
![]() |
![]() |
No comments:
Post a Comment